ملائکہ کا بیان
شيخ عباس الريس ملائکہ (فرشتوں) کے موضوع پر گفتگو درحقیقت ایک ایسے سربستہ راز کا بیان ہے جسے انسان مکمل طور پر نہیں جان سکتا؛ کیونکہ وہ نہ تو اپنے حواس کے ذریعے اس کا ادراک کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنی عقل کی وساطت سے اسے سمجھنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسا عالم ہے جس سے انسان یکسر ناواقف ہے۔ اگرچہ عقل اپنے غور و فکر اور تخیلات کی اڑان بھرتی رہتی ہے، لیکن حقیقتِ حال تک رسائی کے لیے یہ سعی کچھ کام نہیں آتی۔ ہاں، البتہ وہ علم جو کتابِ عزیز (قرآن مجید)، سنتِ مطہرہ اور اہل بیت علیہم السلام کی احادیث سے ہم تک پہنچا ہے (وہی اس راز کو کھولتا ہے)۔ چناں چہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكاً رَّسُولاً﴾ (آپ فرما دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل کرتے)۔ اور ارشادِ ربانی ہے: ﴿اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ﴾ (اللہ فرشتوں میں سے بھی پیغام رساں (رسول) منتخب فرماتا ہے اور انسا...
اقرأ المزيد ←